5 Essential Elements For مستقبل میں دنیا کیسے ہوگی

قرآن مجید سے مطلوبہ استفادہ تدبر فی القرآن کے بغیر بھی ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ خود قرآن مجید میں ارشاد ربانی موجود ہے کہ ’’یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف (اے محمد ﷺ) نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور و تدبر کریں اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں‘‘ (ص: ۲۹)۔تدبر فی ا لقرآن کے ذریعے ا یک طالب علم اپنے ذہن کے دریچے اس کلام کو سمجھنے کے لیے کھولتا ہے تو اسے جستجوئے حق کی راہ میں مشقت کا ثواب ملتا ہے۔ مطالعہ قرآن سے ہمارا مقصد وحید یہی تو ہے کہ ہمارا رب جو اپنے کلام میں ہم سے مخاطب ہے اور اُس نے یہ کلام ہماری پوری ہدایت کے لیے ہی اتارا ہے تواس سے معلوم کریں کہ وہ در اصل ہم سے کیا چاہتا ہے؟ وہی رہنمائی ہم اس کے کلام سے حاصل کرنے کی پوری سنجیدگی اور ا خلاص سے کوشش کریں۔ جو لوگ معانی کے استحضار کے بغیر اور بلاتدبر فی القرآن تلاوت قرآن کرتے ہیں ہماری حقیر رائے میں انھوں نے ثوابِ آخرت تو بھلے ہی کچھ جمع کرلیا ہو مگر اس کتاب سے وہ رہنمائی حاصل نہیں کی جس کے لیے اس کتاب کو نازل کیا گیا تھا۔ کیا تدبر فی القرآن اور ہدایت بالقرآن کی اصل و اہمیت سے کوئی مسلمان انکار کی جرأت کرسکتا ہے؟

پٹرول مہنگا، عوام پریشان، سرکاری اشرافیہ کے مفت مزے برقرار

ناک سے خون بہنے سے اموات۔۔۔سیکڑوں بچے پراسرار ہیپاٹائٹس کا شکار۔۔۔اسپتال مریضوں سے بھرگئے

انسان کی زندگی کس قدر بےمعنی ہے یہ اِس وبا نے ایک مرتبہ پھر ہمیں سمجھا دیا ہے۔ جب سب کچھ دوبارہ سے واپس آئے گا تو زندگی کے متعلق ہمارے رویے تبدیل ہو چکے ہوں گے، ہم ایک ایسی دنیا میں واپس آئیں گے جو بالکل نئی ہو گی جس میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ’محفوظ مستقبل‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، آنے والا ہر لمحہ اگر آگہی کا سبب بنتا ہے تو ساتھ ہی ایک نامعلوم بلیک ہول کا در بھی کھول دیتا ہے۔ نامعلوم سے معلوم تک کا یہ سفر جاری رہے گا، انسان کی پیاس نہیں بجھے گی۔

اگر زمین بزرگتر بود، اتمسفر فاقد هیدروژن می شد مانند سیاره مشتری. زمین تنها سیاره ای است که اتمسفری با ترکیب درست گازها دارد که حیات را برای انسان ها، حیوانات و گیاهان ممکن می سازد.

تازہ مضامین حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبکرائب کیجیے۔

چرا یک ملحد باید وقت و توجه و انرژی زیادی را صرف انکار موضوعی کند که خودش اعتقادی به وجود آن ندارد؟

مغز احساسات شما، افکار و خاطرات شما را نگهداری و پردازش می کند. همزمان مغز فعالیت های مداوم بدن شما مانند الگوی تنفس، حرکت پلک، گرسنگی و حرکات ماهیچه ها را کنترل می کند.

جیسے ہی سورج کی شعاعیں ماحول کی ان سطحوں سے گزرنا شروع ہوتی ہیں، نیلے رنگ کی طولِ موج ٹوٹتی ہے اور اپنے رنگ کو جذب get more info کرنے کے بجائے اس کا انعکاس کرتی ہے۔

سینما، تھیٹروں اور رات کی سرگرمیوں کے بند ہو جانے کی وجہ سے ہم اپنا زیادہ وقت گھروں پر بسر کر رہے ہیں اور کھڑکیوں سے آسمان کی طرف گھورتے رہتے ہیں۔

پہلے - اگر آپ کو رات میں درد ہو تو کسی معالج سے مشورہ نہ کریں۔ کسی ایسے ڈاکٹر یا پبلک کلینشین کی تلاش کریں جو اس بات کا اندازہ کرسکے کہ اس کی وجہ پیتھولوجیکل ہے یا بائیو مکینیکل۔

سندھ طاس معاہدہ: انڈیا اور پاکستان کے درمیان وہ معاہدہ جس سے دونوں ملک چاہ کر بھی نہیں نکل سکتے

چه چیز باعث می شود قوانین طبیعت هیچگاه تغییر نکنند؟ چرا جهان این چنین منظم و پایا است؟

آپ خود ہی اس کا مشاہدہ کریں، ہاں لیکن ایک بات یاد رکھیے گا کہ براہِ راست سورج کی جانب مت دیکھیے گا! اور نہ اسے عام سی دوربین یا پیشہ ورانہ دوربین سے دیکھنے کی کوشش کیجیے گا۔۔۔ ایسا کرنے سے آپ کی نظر متاثر ہو سکتی اور شاید یہ آپ کو مستقل طور پر اندھا بھی کر دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *